Unpredictable man ( @unpredictable__man ) Instagram Profile

unpredictable__man

Unpredictable man Try to finding myself

  • 2.3k posts
  • 2.1k followers
  • 653 following
  • انہیں ہم یاد کرتے ہیں ــــــــــ ❤️❤️❤️
شاکر شجا آبادی سرائیکی کے شکسپئیر اور انقلابی شاعر جنہوں نے سرائیکی زبان میں انقلاب برپا کردیا ، اور ملک میں غربت پر ایسے نوحے لکھ ڈالے کہ سرائیکی سمجھنے والے ان پر ماتم کرتے نہیں تھکتے - اور ہر حکومت کی ناہلی کہ آج بھی وہ ہیرا مٹی میں رل رہا ہے-
آج ہم ذکر کریں اس خدا کے بندے کا جس کو اپنا نہیں بلکہ زمانے کا درد تھا اور جس کی عمر آٹھ سال تھی اور بچے پتھر مارتے تھے معذوری کی وجہ سے تو انہوں نے عہد کیا تھا کہ وہ کچھ ایسا کرینگے کے معذوری بھی ان کا ہتھیار ثابت ہوگی -
بس پھر کیا تھا سرائیکی زبان کے افق پر ایک ستارہ یکایک ایسا ابھرا کہ انہیں ایک بار سفارشی پندرہ منٹ شاعری سنانے کے ملے مگر لوگوں نے دو گھنٹے تک ان کو سٹیج سے اترنے نہ دیا اور داد دیتے رہے -
اتے انصاف دا پرچم، تھلے انصاف وکدا پئے،
ایہو جئی عدالت کو بمعہ عملہ اڑا دیوو
شاکر شجاع آبادی کی پیدائش 25 فروری 1968ء کو شجاع آباد کے ایک چھوٹے سے گاوٗں راجہ رام میں ہوئی جو ملتان سے ستر70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ 1994ء تک بول سکتے تھے، اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں اور ان کا پوتا ان کی ترجمانی کرتا رہا۔
72 حور دے بدلے گزارہ ہک تے کر گھنسوں
71 حور دے بدلے اساں کوں رج کے روٹی دے
شاکر کیساتھ ایک انٹرویو سنتے ہوئے اس وقت میری آنکھیں بھیگ گئیں جب اینکر نے پوچھا کہ آپ کو سب سے زیادہ دکھ کس چیز کا ہے ؟
تو اس خدا کے بندے نے کہا کہ جب میں کسی غریب کی بے بسی کو دیکھتا ہوں تب مجھے دکھ ہوتا ہے اور جب اینکر نے ان سے مزید پوچھا کہ آپ اپنی غربت پر دکھی نہیں ؟؟؟ تو اس نے جواب دیا کہ میرے دکھ تو عبادت ہیں کیونکہ مجھے بنا سزا کے مل رہے ہیں -
نجومی نہ ڈراوے دے اساکوں بدنصیبی دے
جڈاں ہتھاں تے چھالے تھئے لکیراں خود بدل ویسن
جب نواز شریف صاحب نے وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالا تو شاکر نے کچھ یوں عکاسی کی،
ساڈا ملک اے شاکر شیشے دا،
ارمان لوہار دے ہتھ آ گئے
سب سے مزے کی بات یہ کہ وہی شاکر جسے پانچ پانچ دن بھوکا رہنا پڑتا کیونکہ اس کے گھر میں چولہا جلانے کے پیسے نہیں ہوتے جب انہیں ایک بار حکومت نے دو لاکھ کا چیک دیا تو اس نے ایک سکول کو ڈونیٹ کردیا ۔
اففف خدایا انسانیت کی ایسی مثال
آج تک اپنی زندگی میں سب سے زیادہ پچاس ہزار روپیہ دیکھنے والا شخص کسی بھیک کا محتاج نہیں، اور اس کا ایک ادارہ بزم شاکر آج بھی اپنے آب و تاب سے چل رہا ہے اور ان شا ء اللہ چلتا رہیگا -
اونہاں دے بال ساری رات روندے ہن، تے بھُک تو سمدے نئیں،
جنہاں دے کہیں دے بالاں کو ک
  • انہیں ہم یاد کرتے ہیں ــــــــــ ❤️❤️❤️
    شاکر شجا آبادی سرائیکی کے شکسپئیر اور انقلابی شاعر جنہوں نے سرائیکی زبان میں انقلاب برپا کردیا ، اور ملک میں غربت پر ایسے نوحے لکھ ڈالے کہ سرائیکی سمجھنے والے ان پر ماتم کرتے نہیں تھکتے - اور ہر حکومت کی ناہلی کہ آج بھی وہ ہیرا مٹی میں رل رہا ہے-
    آج ہم ذکر کریں اس خدا کے بندے کا جس کو اپنا نہیں بلکہ زمانے کا درد تھا اور جس کی عمر آٹھ سال تھی اور بچے پتھر مارتے تھے معذوری کی وجہ سے تو انہوں نے عہد کیا تھا کہ وہ کچھ ایسا کرینگے کے معذوری بھی ان کا ہتھیار ثابت ہوگی -
    بس پھر کیا تھا سرائیکی زبان کے افق پر ایک ستارہ یکایک ایسا ابھرا کہ انہیں ایک بار سفارشی پندرہ منٹ شاعری سنانے کے ملے مگر لوگوں نے دو گھنٹے تک ان کو سٹیج سے اترنے نہ دیا اور داد دیتے رہے -
    اتے انصاف دا پرچم، تھلے انصاف وکدا پئے،
    ایہو جئی عدالت کو بمعہ عملہ اڑا دیوو
    شاکر شجاع آبادی کی پیدائش 25 فروری 1968ء کو شجاع آباد کے ایک چھوٹے سے گاوٗں راجہ رام میں ہوئی جو ملتان سے ستر70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ 1994ء تک بول سکتے تھے، اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں اور ان کا پوتا ان کی ترجمانی کرتا رہا۔
    72 حور دے بدلے گزارہ ہک تے کر گھنسوں
    71 حور دے بدلے اساں کوں رج کے روٹی دے
    شاکر کیساتھ ایک انٹرویو سنتے ہوئے اس وقت میری آنکھیں بھیگ گئیں جب اینکر نے پوچھا کہ آپ کو سب سے زیادہ دکھ کس چیز کا ہے ؟
    تو اس خدا کے بندے نے کہا کہ جب میں کسی غریب کی بے بسی کو دیکھتا ہوں تب مجھے دکھ ہوتا ہے اور جب اینکر نے ان سے مزید پوچھا کہ آپ اپنی غربت پر دکھی نہیں ؟؟؟ تو اس نے جواب دیا کہ میرے دکھ تو عبادت ہیں کیونکہ مجھے بنا سزا کے مل رہے ہیں -
    نجومی نہ ڈراوے دے اساکوں بدنصیبی دے
    جڈاں ہتھاں تے چھالے تھئے لکیراں خود بدل ویسن
    جب نواز شریف صاحب نے وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالا تو شاکر نے کچھ یوں عکاسی کی،
    ساڈا ملک اے شاکر شیشے دا،
    ارمان لوہار دے ہتھ آ گئے
    سب سے مزے کی بات یہ کہ وہی شاکر جسے پانچ پانچ دن بھوکا رہنا پڑتا کیونکہ اس کے گھر میں چولہا جلانے کے پیسے نہیں ہوتے جب انہیں ایک بار حکومت نے دو لاکھ کا چیک دیا تو اس نے ایک سکول کو ڈونیٹ کردیا ۔
    اففف خدایا انسانیت کی ایسی مثال
    آج تک اپنی زندگی میں سب سے زیادہ پچاس ہزار روپیہ دیکھنے والا شخص کسی بھیک کا محتاج نہیں، اور اس کا ایک ادارہ بزم شاکر آج بھی اپنے آب و تاب سے چل رہا ہے اور ان شا ء اللہ چلتا رہیگا -
    اونہاں دے بال ساری رات روندے ہن، تے بھُک تو سمدے نئیں،
    جنہاں دے کہیں دے بالاں کو ک
  • 3 0 7 hours ago